داغ دہلوی

داغؔ کا اصل نام ابراہیم تھا لیکن وہ نواب مرزا خان کے نام سے جانے گئے۔ وہ 1831 میں دہلی میں پیدا ہوئے، ان کے والد نواب شمس الدین والیٔ فیروز پور جھرکہ تھےجنہوں نے ان کی والدہ مرزا خانم عرف چھوٹی بیگم سے با قائدہ شادی نہیں کی تھی۔ نواب شمس الدیں خان کو اس وقت جب داغؔ تقریباً چار برس کے تھے، دہلی کے ریزیڈنٹ ولیم فریزر کے قتل کی سازش میں ملوث ہونے کے الزام میں پھانسی دے دی گئی تھی۔ اس کے بعد جب ان کی عمر تیرہ سال کی تھی، ان کی والدہ نےاس وقت کی برائے نام مغلیہ سلطنت کے ولی عہد مرزا فخرو سے شادی کر لی تھی۔ اس طرح داغؔ کی ذہنی اور علمی تربیت قلعہ کے ماحول میں ہوئی۔ ان کو اپنے وقت کی بہترین تعلیم دی گئی جو شہزادوں اور امراء کے لڑکوں کے لئے مخصوص تھی۔ قلعہ کے رنگین اور ادبی ماحول میں داغؔ کو شاعری کا شوق پیدا ہوا اور انہوں نے ذوق کی شاگردی اختیار کرلی۔ نوعمری سے ہی داغؔ کی شاعری میں نیا بانکپن تھا۔ ان کے نئے انداز کو امام بخش صہبائی، غالب اور شیفتہ سمیت تمام اہل علم نے سراہا اور ان کی حوصلہ افزائی کی۔ لال قلعہ میں داغؔ تقریباً چودہ سال رہے۔ 1856 میں مرزا فخرو کا انتقال ہو گیا اور داغؔ کو وہاں سے باہر نکلنا پڑا۔ ایک ہی سال بعد 1857 کا غدر ہوا اور داغؔ دہلی کو بھی خیرآباد کہہ کر رامپور چلے گئے جہاں وہ نواب کے مہمان کی طرح رہے۔ اس وقت رامپور میں بڑے بڑے اہل فن جمع تھے اور داغؔ کو اپنی پسند کا ماحول میسر تھا۔ نواب یوسف علی خان کی موت کے بعد نواب کلب علی خان مسند نشین ہوئے۔ وہ داغؔ کی صلاحتوں سے متاثر تھے، انہوں نے داغؔ کو کارخانہ جات، فراش خانہ اور اصطبل کی داروغی سونپ کر ان کی تنخواہ 70 روپے ماہانہ مقرر کر دی۔نواب کلب علی کی موت کے بعد نئے نواب مشتاق علی خاں کو شعر و شاعری سے کوئی دلچسپی نہیں تھی اور فنکاروں کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ داغؔ کو رامپور چھوڑنا پڑا۔ کچھ عرصہ ملک کے مختلف شہروں اور ریاستوں میں قسمت آزمائی کی اور شاگرد بنائے آخر حیدر آباد کے نواب محبوب علی خان نے ان کو حیدر آباد بلا لیا۔  بطور استاد ان کا وظیفہ 450 روپے ماہانہ مقرر کیا گیا جو بعد میں ایک ہزار روپے ہو گیا۔ ساتھ ہی ان کو جاگیر میں اک گاؤں ملا۔ نواب حیدرآباد نے ہی ان کو بلبل ہند، جہان استاد، دبیر الدولہ، ناظم جنگ اور نواب فصیح الملک کے خطابات سے نوازا۔ داغؔ آخری عمر تک حیدرآباد میں ہی رہے۔ یہیں 1905 میں ان کا انتقال ہوا۔ داغؔ نے پانچ دیوان چھوڑے جن میں 1028 غزلیں ہیں۔